اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی ریاست کے مذہبی تعلیمی نظام کے دو اہم نیٹ ورکس کے سربراہان نے دائیں بازو کی سیاسی قوت بڑھانے کے مقصد سے جاری انتخابی مہم میں کھل کر شمولیت اختیار کی ہے۔
الجزیرہ نیٹ کے مطابق، ’’بنی عقیوا یشیوات اور اولپانوت‘‘ نیٹ ورک کے سربراہ الحنان گلات اور ’’نوعام-تسفیا‘‘ نیٹ ورک کے سربراہ یانکی فریڈمین نے ’’26 میں‘‘ کے نام سے قائم انتخابی مہم کی قیادت میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس مہم کا مقصد صیہونی ریاست میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل ’’قومی کیمپ‘‘ کے حامیوں میں ووٹ ڈالنے کی شرح بڑھانا ہے۔
عبرانی ذرائع ابلاغ کی کوریج کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ محض کسی فرد کے ذاتی اور وقتی سیاسی مؤقف تک محدود نہیں، بلکہ صیہونی ریاست کے سرکاری مذہبی تعلیمی نظام کے دو بڑے نیٹ ورکس کے سربراہان ایک ایسی انتخابی مہم میں شریک ہوگئے ہیں جس کا واضح مقصد دائیں بازو کے دھڑے کو کنیسٹ میں 61 نشستیں دلانا ہے۔
’’26 میں‘‘؛ دائیں بازو کے حامیوں کو زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کا منصوبہ
صیہونی ریاست کے چینل 14 کے صحافی ماتی توخفیلڈ نے 24 اگست 2026 کو رپورٹ کیا کہ ’’26 میں‘‘ کے نام سے انتخابی مہم یوسی داگان کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے، جو ’’شمرون آبادکاروں کی کونسل‘‘ کے سربراہ ہیں۔ اس مہم میں لیکود جماعت کے ’’لیکود شیلی‘‘ گروپ سے وابستہ یعقوب وائنبرگر اور یونی اسرائیلی بھی تعاون کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے کا بنیادی مقصد ’’قومی کیمپ‘‘ کے حامیوں کی انتخابی شرکت میں اضافہ کرنا ہے، خاص طور پر ان پسماندہ شہروں، محلوں اور روایتی طور پر دائیں بازو کے حامی علاقوں میں جہاں عام طور پر ووٹ ڈالنے کی شرح نسبتاً کم رہتی ہے۔
اس انتخابی مہم کے تحت ہزاروں رضاکاروں کی خدمات حاصل کرنے، گھر گھر رابطہ کرنے اور ووٹروں کو پولنگ مراکز تک پہنچانے کے لیے سفری سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ